بدری تالاب کی بحالی کا آغاز، ڈیرہ اسماعیل خان میں آبی تحفظ اور موسمیاتی لچک میں بہتری کی جانب اہم پیش رفت

25-08-2026

 

اسلام آباد، 25 اگست 2026: ڈیرہ اسماعیل خان کے گاؤں برزوالی میں بدری تالاب کی بحالی کے کام کا آغاز کر دیا گیا ہے، جو ریچارج پاکستان منصوبے کے تحت ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اس اقدام کا مقصد علاقے کے اہم موسمی میٹھے پانی کے نظام کو بحال کرنے کے ساتھ ساتھ آبی تحفظ کو بہتر بنانا اور مقامی آبادیوں کی موسمیاتی تغیرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط کرنا ہے۔ پاکستان کو درپیش بڑھتے ہوئے موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فطرت پر مبنی حل (Nature-based Solutions) میں سرمایہ کاری کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے WWF-پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل حماد نقی خان نے کہا، ’’پاکستان میں آنے والے سیلاب اور خشک سالی بدلتے ہوئے موسمی حالات کی علامات ہیں، جو ہماری آبادی، ماحولیاتی نظام اور آبی وسائل پر بڑھتا ہوا دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کا ایک اہم حصہ فطرت کی پانی کو جذب، ذخیرہ اور منظم کرنے کی قدرتی صلاحیت کو بحال کرنا ہے۔ بدری تالاب جیسے ماحولیاتی نظام میں سرمایہ کاری دراصل طویل مدتی موسمیاتی   تغیرات سے نمٹنے کی صلاحیت میں سرمایہ کاری ہے۔‘‘

 

بدری تالاب پر عملی کام کا آغاز ریچارج پاکستان منصوبے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، جس کے تحت ماحولیاتی نظام پر مبنی موافقت (Ecosystem-based Adaptation) کے اہم اقدامات میں سے ایک پر عملی پیش رفت ہوگی۔ اس سے اس قدرتی ذخیرے کی پانی محفوظ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ، زیرِ زمین پانی کی ری چارجنگ میں بہتری اور موسمیاتی لچک کو استحکام ملے گا۔ بحالی کے کام کا آغاز تفصیلی تکنیکی جائزوں، حکومتی شراکت داروں اور مقامی آبادیوں کے ساتھ قریبی مشاورت کے بعد کیا گیا ہے، تاکہ یہ اقدام ماحولیاتی ضروریات کے ساتھ ساتھ مقامی ترجیحات سے بھی ہم آہنگ ہو۔

 

ریچارج پاکستان 72.9 ملین امریکی ڈالر مالیت کا سات سالہ موسمیاتی موافقت کا منصوبہ ہے، جسے WWF-پاکستان، وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری اور وزارتِ آبی وسائل کے تحت وفاقی فلڈ کمیشن کے اشتراک سے نافذ کر رہا ہے۔ اس منصوبے کو گرین کلائمیٹ فنڈ (GCF)، دی کوکا کولا فاؤنڈیشن (TCCF) اور WWF کی معاونت حاصل ہے۔ خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں جاری اس منصوبے کا مقصد فطرت پر مبنی حل کے ذریعے سیلاب اور خشک سالی کے خطرات میں کمی، زیرِ زمین پانی کی ری چارجنگ میں بہتری، تباہ حال ماحولیاتی نظام کی بحالی اور پاکستان میں موسمیاتی لچک کو مضبوط بنانا ہے۔

 

بدری تالاب کئی نسلوں سے قریبی آبادیوں، مویشیوں اور مقامی حیاتیاتی تنوع و ماحولیاتی نظام کے لیے موسمی میٹھے پانی کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ گاد جمع ہونے، قدرتی آبی گزرگاہوں کے مسدود ہونے اور پشتوں کے کٹاؤ کے باعث پانی ذخیرہ کرنے اور برقرار رکھنے کی اس کی صلاحیت میں کمی واقع ہوئی، جس سے اس کے ماحولیاتی کردار کو نقصان پہنچا اور مقامی آبادیوں کو پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑا۔ تالاب کی بحالی فطرت پر مبنی حل کے ذریعے ماحولیاتی نظام کے افعال کو بحال کرنے اور موسمیاتی  تغیرات سے نمٹنے کی صلاحیت مضبوط بنانے کی ایک عملی مثال پیش کرے گی۔

 

اس اقدام کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے WWF-پاکستان میں ریچارج پاکستان کے سینئر ڈائریکٹر محمد فواد حیات نے کہا: ’’بدری تالاب منصوبہ ریچارج کے تحت عملی مرحلے میں داخل ہونے والا فطرت پر مبنی ایک اہم سنگ میل ہے۔ آئندہ چند ماہ کے دوران 415 میٹر قدرتی آبی گزرگاہوں کو بحال کیا جائے گا، ایک ہیکٹر رقبے پر محیط تالاب سے گاد نکالی جائے گی اور 211 میٹر پشتوں کو مضبوط کیا جائے گا۔ ان اقدامات سے تالاب کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں تقریباً 20,000 مکعب میٹر اضافہ ہوگا اور اندازاً 2,957 گھرانوں کے لیے آبی تحفظ کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔‘‘

 

دی کوکا کولا فاؤنڈیشن کے صدر کارلوس پاگوگا نے کہا: ’’آبی گزرگاہوں اور واٹرشیڈز کی لچک مضبوط بنانے کے لیے مؤثر شراکت داری اور طویل مدتی سرمایہ کاری ضروری ہے۔ کوکا کولا فاؤنڈیشن کو خوشی ہے کہ وہ ریچارج پاکستان منصوبے کی منصوبہ بندی سے عملی نفاذ کی جانب پیش رفت میں معاونت کر رہی ہے، جہاں فطرت پر مبنی عملی حل کے ذریعے آبی تحفظ بہتر بنانے اور آنے والی نسلوں کے لیے مقامی آبادیوں کو مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘‘

 

گرین کلائمیٹ فنڈ (GCF) کے ایشیا اور بحرالکاہل خطے کے ڈائریکٹر ہیمنت منڈل نے کہا: ’’بدری تالاب کی بحالی کا کام GCF کے تعاون سے جاری ریچارج پاکستان منصوبے کے تحت موسمیاتی فنانسنگ کو عملی اور اشتراکی اقدامات میں تبدیل کرنے کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے۔ قدرتی ماحولیاتی نظام کی بحالی کو روایتی انفراسٹرکچر کے ساتھ مربوط کرتے ہوئے یہ منصوبہ ظاہر کرتا ہے کہ فطرت پر مبنی حل انسانوں اور ماحول دونوں کے لیے پائیدار فوائد فراہم کر سکتے ہیں۔‘‘

 

بدری تالاب کی بحالی کا کام دسمبر 2026 کے اختتام تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ یہ ریچارج پاکستان منصوبے کے تحت متعدد فطرت پر مبنی حل کے اقدامات میں پہلا اقدام ہے جس پر عملی کام شروع کیا گیا ہے۔ یہ اقدامات مجموعی طور پر اس امر کا عملی مظاہرہ کریں گے کہ قدرتی نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر کام کرنا روایتی انفراسٹرکچر کی تکمیل کرتے ہوئے قدرتی آفات کے خطرات کم کرنے، آبی تحفظ بہتر بنانے اور پاکستان کے موسمیاتی لحاظ سے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار علاقوں میں طویل مدتی استحکام پیدا کرنے میں کس طرح معاون ثابت ہو سکتا ہے۔