پاکستان کوکاکولا فاؤنڈیشن کے اشتراک سے یو این او پی ایس (UNOPS) کے نئے منصوبے کے ساتھ سرکلر اکانومی کی طرف گامزن

17-07-2026

 

یونائیٹڈ نیشنز آفس فار پروجیکٹ سروسز (UNOPS) اور انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO)، دی کوکا کولا فاؤنڈیشن (TCCF) کے مالی تعاون سے، اسلام آباد میں “پلاسٹک (PET) ری سائیکلنگ کی ویلیو چین میں پائیداری اور باوقار کام کا فروغ” کے عنوان سےایک پائلٹ پروجیکٹ کا نفاذ کر رہے ہیں ۔

 

دی کوکا کولا فاؤنڈیشن اس منصوبے کے لیے 5 لاکھ امریکی ڈالر فراہم کر رہی ہے، جس کا مقصد پی ای ٹی (PET) ری سائیکلنگ کے نظام کو مضبوط بنانا، ایکسٹینڈڈ پروڈیوسر ریسپانسبلٹی (EPR) کے پالیسی فریم ورک کو آگے بڑھانا، اور دارالحکومت میں کچرا اکٹھا کرنے والے غیر رسمی ورکرز کے پیشہ ورانہ تحفظ، صحت اور روزگار کو نمایاں طور پر بہتر بنانا ہے۔

 

اس پروجیکٹ کے تحت، یو این او پی ایس (UNOPS) پاکستان نے اسلام آباد میں "سرکلر پلاسٹک اکانومی کی طرف منتقلی" کے موضوع پر ایک ملٹی اسٹیک ہولڈر تعارفی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ اس ورکشاپ میں وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی (MoCC&EC)، پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (Pak-EPA)، کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA)، اور ورکرز کے نمائندوں نے شرکت کی۔

 

وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کی وزیر مملکت ڈاکٹر شیزرہ منصب نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور پائیدار ویسٹ مینجمنٹ اور سرکلر اکانومی کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

"سرکلر اکانومی کی طرف منتقلی ایک قومی ماحولیاتی ترجیح ہے، اور اس طرح کے منصوبے اس تبدیلی کو آگے بڑھانے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اپنے ویسٹ مینجمنٹ سسٹمز کو بہتر بنانا اور ری سائیکلنگ کے اقدامات کو وسعت دینا ناگزیر اقدامات ہیں، جبکہ ہمارے ریگولیٹری ماحول میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے مضبوط ہم آہنگی، اجتماعی ادارہ جاتی کارروائی اور متحدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ ہمارے غیر رسمی ورکرز میں آگاہی پیدا کرنا اور ان کی پیشہ ورانہ حفاظت اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہماری اس منتقلی کی ترجیح ہونی چاہیے، کیونکہ ایک پائیدار مستقبل کے حصول کے لیے ان کا کردار انتہائی اہم ہے۔"

 

ورکشاپ کے دوران، یو این او پی ایس (UNOPS) پاکستان کی کنٹری مینیجر جینیفر اینکروم نے ویسٹ ویلیو چین کے پیچیدہ حقائق کو سمجھنے کے لیے اہم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت میں سرگرمی سے حصہ لیا۔ اس بحث کا محور کام کے دوران آنے والی اہم رکاوٹیں، وسائل کی کمی، اور فرنٹ لائن ورکرز کو درپیش مشکل حالات کو سامنے لانا تھا۔

 

ٹیکنیکل سیشن کے دوران ایک تشخیصی مطالعہ کے ابتدائی نتائج شیئر کیے گئے، جن میں پی ای ٹی (PET) ری سائیکلنگ ویلیو چین کے اندر پالیسی، گورننس، مارکیٹ سسٹمز، میٹریل ریکوری اور اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت کے حوالے سے اہم خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔ شرکاء نے ان شواہد پر مبنی اقدامات کو مضبوط بنانے کے لیے قیمتی آراء اور سفارشات پیش کیں۔

 

پاکستان میں سالانہ تقریبا بیس لاکھ ٹن پلاسٹک کا کچرا پیدا ہونے کے پیشِ نظر، یہ پائلٹ پروجیکٹ قومی سطح پر کچرے کے انتظام اور ری سائیکلنگ کے لیے ایک زیادہ پائیدار، جامع اور وسیع فریم ورک کی تشکیل کی راہ ہموار کررہاہے۔